بنگلورو،29/اپریل(ایس او نیوز) ریاستی حکومت نے بروہت بنگلورو مہا نگرا پالیکے (بی بی ایم پی) کے اقتصادی سال 2019-20 کے بجٹ کو یہ کہتے ہوئے واپس لوٹا دیا ہے کہ اس بجٹ کے کل حجم کو 9,000 کروڑ روپئے سے کم کر دیا جائے، اس کا مطلب یہ ہے کہ بی بی ایم پی کو اب مکمل طور پر ایک نیا بجٹ تیار کرنا ہوگا اور اس کے بعد وہ اس نئے تیار کر دہ بجٹ کو منظوری کے لئے ریاستی حکومت کی خدمت میں دوبارہ روانہ کر سکتی ہے-ذرائع کے مطابق بی بی ایم پی نے ریاستی حکومت کی منظوری کے لئے 12,954 کروڑ روپئے کا بجٹ روانہ کیا تھا، حالانکہ اصلاً بی بی ایم پی کا بجٹ 10,691 کروڑ روپئے طے کیا گیا تھا مگر بی بی ایم پی کونسل کی طرف سے منظوری کے کچھ ہی لمحات قبل اس کو بڑھا کر 12,954 کروڑ کر دیا گیا تھا اور اب ریاستی محکمہ برائے شہری ترقیات اور محکمہ برائے مالیات دونوں نے بیک وقت اس بجٹ کو رد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بجٹ غیر حقیقت پسندانہ ہے، اسی لئے ریاستی حکومت نے بی بی ایم پی سے کہا ہے کہ وہ دوبارہ حقیقت پسندانہ بجٹ منظوری کے لئے روانہ کرے-